سٹی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کی مارکیٹ 2030 تک 5.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھ جائے گی۔ اس ترقی میں خاص طور پر اسٹیبل کوائنز کا کردار اہم ہوگا، جو امریکی ٹریژری بلز کی آن چین طلب کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا امکان رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹوکنائزڈ اسٹاکس کی مارکیٹ میں بھی 2.6 ٹریلین ڈالر کی طلب متوقع ہے۔ یہ پیش رفت مالیاتی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی کرتی ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے مارکیٹ کی شفافیت اور لیکویڈیٹی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ روایتی مالیاتی نظام میں تبدیلی کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔ تاہم، اس ترقی کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری چیلنجز اور سیکیورٹی کے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ مستقبل میں، اس مارکیٹ کی توسیع مالیاتی شعبے میں نئی جدتوں اور سرمایہ کاری کے رجحانات کو فروغ دے سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk