سی ایف ٹی سی کے چیئرمین مائیک سیلگ نے کہا ہے کہ امریکہ ایک سال بعد جب جینیئس ایکٹ نافذ ہوا، عالمی کرپٹو کرنسی کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سینیٹر بل ہیگری کی قیادت کو اس کامیابی کا سہرا دیا۔ اس قانون کے نفاذ سے کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور ضابطہ کاری کو فروغ ملا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ اس پیش رفت کے باعث امریکی کرپٹو انڈسٹری کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہوئی ہے اور مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ مستقبل میں اس شعبے میں مزید ضوابط اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں ممکنہ خطرات اور چیلنجز بھی موجود ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance