ایران کی جانب سے حالیہ جنگ بندی معاہدے کی تین بنیادی شقوں کی خلاف ورزی کی اطلاعات نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ تہران کے دعوے کے مطابق، ہورموز تنگی کی بندش اور تیل کی قیمتوں کا بڑھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کا فوری اثر کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے جہاں بٹ کوائن کی قیمت 71,000 ڈالر سے نیچے آ گئی ہے جبکہ ایتھیریم، سولانا اور ایکس آر پی جیسی بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی نمایاں کمی کا شکار ہوئیں۔ عالمی سرمایہ کار اس کشیدگی کو خطے کی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے مالیاتی اثاثوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے۔
ایران کی جنگ بندی معاہدے میں ناکامی سے تیل کی مارکیٹ میں بھی بے چینی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے تیل کی قیمتوں کو 97 ڈالر کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ہورموز تنگی کی بندش عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے، جس سے نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے عالمی معیشت کی بحالی کے امکانات پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے جس کی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی کمی اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ مزید برآں، یہ کشیدگی عالمی مالیاتی نظم و نسق میں بھی خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ خطے کی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے ادارہ جاتی سرمایہ کاری پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عالمی مارکیٹ میں سنسنی اور خطرے کے جذبات کو بڑھاوا دیتی ہے، جو کہ مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk