بٹ کوائن کی قیمت 64 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی، مہنگائی میں کمی کے بعد

جون میں صارفین کی قیمتوں میں توقع سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں یہ کمی چھ سال کی سب سے بڑی سست روی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں امید پیدا کی ہے کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ تاہم، جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں نے کرپٹو مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ اس صورتحال میں، سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مارکیٹ کی سمت کے بارے میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔ آئندہ مہینوں میں، اگر عالمی سیاسی حالات میں بہتری آئی تو کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید استحکام متوقع ہے، ورنہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی بینکوں کی ممکنہ پالیسی تبدیلیاں بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

ٹیگز:
شئیر کیجیے: