بٹ کوائن پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے حالیہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی پیش رفتوں کے باعث بٹ کوائن کے نیٹ ورک اپ گریڈز کے لیے وقت کی حد کم ہونے کی وارننگ دی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، گوگل اور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیقاتی رپورٹس نے بٹ کوائن کی کرپٹوگرافی کو درپیش ممکنہ خطرات کے لیے درکار کوانٹم کمپیوٹنگ کی طاقت کے اندازے کم کر دیے ہیں۔ اگرچہ موجودہ کوانٹم مشینیں ابھی بھی اس حد سے بہت دور ہیں، لیکن یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بٹ کوائن کے ڈویلپرز کو جلد از جلد حفاظتی اپ گریڈز پر کام کرنا چاہیے۔ بٹ کوائن پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے خاص طور پر BIP-360 تجویز کی حمایت کی ہے، جو ایک نیا ایڈریس فارمیٹ متعارف کراتا ہے تاکہ کوانٹم حملوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، 2021 میں فعال ہونے والا Taproot اپ گریڈ بھی کوانٹم مزاحم تصدیقی طریقوں کی حمایت کرتا ہے۔ بٹ کوائن کی غیر مرکزی نوعیت اپ گریڈز کے نفاذ کو پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ کسی بھی تبدیلی کے لیے نیٹ ورک کے تمام شرکاء کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں، بٹ کوائن کمیونٹی کی جانب سے جاری حفاظتی اقدامات اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے عالمی معیاروں کی تیاری مستقبل میں نیٹ ورک کی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine