بٹ کوائن نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے کیونکہ اس کی کل فراہمی میں سے 20 ملین سے زائد سکے مائن ہو چکے ہیں، جبکہ کل فراہمی 21 ملین ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 95 فیصد سے زائد بٹ کوائن پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں اور صرف ایک ملین سے کم سکے باقی ہیں جو مستقبل میں مائن کیے جائیں گے۔ بٹ کوائن کی فراہمی اس کے کوڈ میں پہلے سے طے شدہ ہے، جو اسے روایتی کرنسیوں سے مختلف بناتی ہے۔ مائنرز کو نئے سکے ٹرانزیکشن کی تصدیق کے بدلے میں ملتے ہیں، اور یہ انعام ہر چار سال بعد نصف ہو جاتا ہے، جسے ‘ہالوِنگ’ کہا جاتا ہے۔ 2024 کی تازہ ترین ہالوِنگ کے بعد، مائنرز کو فی بلاک 3.125 بٹ کوائن مل رہے ہیں، جو نئے سکے پیدا کرنے کی رفتار کو کم کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ سکے مستقل طور پر کھو چکے ہیں یا غیر قابل استعمال ہیں، جس سے دستیاب سکے اور بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ یہ ایک محدود اور نایاب ڈیجیٹل اثاثہ بن چکا ہے۔ مستقبل میں، مائنرز مکمل طور پر ٹرانزیکشن فیس پر انحصار کریں گے، جو نیٹ ورک کی حفاظت کو یقینی بنائے گا لیکن ممکنہ طور پر ٹرانزیکشن کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔ بٹ کوائن کی قیمتیں عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے رجحانات کے مطابق اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں گی، مگر اس کی محدود فراہمی اسے طویل مدتی میں ایک منفرد مالیاتی تجربہ بناتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine