بٹ کوائن نے حالیہ فلیش کریش کے باوجود 60 ہزار ڈالر کی سطح برقرار رکھی ہے، جو کہ کرپٹو مارکیٹ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم اس نے فوری طور پر اپنی قیمت میں بہتری دکھائی اور 60,900 ڈالر کے قریب تجارت کی۔ اس دوران، نَسڈیک میں شدید مندی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا۔ اس صورتحال میں، بٹ کوائن کے حامیوں نے اس کمی کو خریداری کا موقع قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اس کرپٹو کرنسی میں اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی کانگریس میں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس قوانین میں وضاحت کے لیے سات مسودہ بل زیر بحث ہیں، جو کہ اس صنعت کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، الینوائے میں ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹرانزیکشن ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، جو وفاقی اور ریاستی قوانین کے درمیان مقابلے کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت غیر یقینی صورتحال موجود ہے، خاص طور پر جون میں متوقع صارف قیمت اشاریہ اور وفاقی ریزرو کی میٹنگ کے پیش نظر، جو مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام اور ٹیکس قوانین میں پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں مزید ترقی کے امکانات موجود ہیں، تاہم عالمی سیاسی اور معاشی عوامل اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance