بین الاقوامی ادائیگیوں کے ادارے نے مستحکم سکونز کو ای ٹی ایف سے مشابہ قرار دیا اور ایف ایکس خطرات کی نشاندہی کی

بین الاقوامی ادائیگیوں کے ادارے (BIS) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں مستحکم سکونز (Stablecoins) اور مصنوعی ذہانت (AI) کے رجحانات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مستحکم سکونز روایتی پیسے کی بجائے ای ٹی ایف (ETF) کی طرح ہیں، جو مالیاتی نظام میں غیر متوقع خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر، ان سکونز کے ذریعے کرنسیوں کے تبادلے میں اضافی خطرات سامنے آ رہے ہیں جو عالمی مالیاتی استحکام کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ایک اہم تشویش کا باعث ہے کیونکہ مستحکم سکونز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے مالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب ضوابط اور نگرانی نہ کی گئی تو یہ خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں، بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور حکومتی ایجنسیاں اس مسئلے پر مزید غور و فکر کریں گی تاکہ مستحکم سکونز کے استعمال کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: