بھوٹان کی سرکاری سرمایہ کاری کمپنی نے 2026 میں اپنے بٹ کوائن کے ذخائر کا نصف سے زیادہ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ ملک نے اب تک تقریباً 42.5 ملین ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اور یو ایس ڈی ٹی کی منتقلی کی ہے، جو کہ ایک محدود اور مستقل خریداروں کے ساتھ کی گئی ہے۔ یہ اقدامات حکومتی خزانے کی منصوبہ بندی اور لیکویڈیٹی مینجمنٹ کی حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں، نہ کہ مارکیٹ میں گھبراہٹ کی وجہ سے۔ بھوٹان نے اپنی بٹ کوائن کی کان کنی زیادہ تر اضافی ہائیڈرو پاور کے ذریعے کی ہے، جس کی وجہ سے اس کا لاگت تقریباً صفر ہے، اس لیے ہر فروخت پر منافع حاصل ہوتا ہے۔ 2024 کے آخر میں بھوٹان کے بٹ کوائن کے ذخائر تقریباً 13,000 بی ٹی سی تک پہنچ گئے تھے، لیکن اب یہ تعداد تقریباً 5,400 بی ٹی سی رہ گئی ہے، جو کہ 58 فیصد کمی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے بٹ کوائن کی قیمت میں بھی کمی آئی ہے، جس سے مجموعی قیمت 1.5 بلین ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 374 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ بھوٹان کا یہ اقدام اس کے مالی وسائل کو مستحکم کرنے اور عوامی خدمات جیسے صحت، ماحولیاتی منصوبوں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی مالی معاونت کے لیے اہم ہے۔ مستقبل میں، ملک کی حکومتی مالیاتی حکمت عملی اور بٹ کوائن کی قیمتوں میں تبدیلیاں اس کے ذخائر اور مالی استحکام پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine