امریکی بینکرز ایسوسی ایشن نے سینیٹ میں زیر غور کلیرٹی ایکٹ کے حوالے سے انتباہات میں اضافہ کیا ہے کہ اگر قانون ساز ییلڈ کی حدوں کو سخت نہیں کرتے تو جمع کنندگان اپنے فنڈز کو سٹیبل کوائنز کی طرف منتقل کر سکتے ہیں۔ اس قانون کا مقصد مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور غیر روایتی کرپٹو اثاثوں پر نگرانی بڑھانا ہے۔ بینکنگ شعبے کا موقف ہے کہ سٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بینکوں کی روایتی جمع شدہ رقم کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مالیاتی نظام میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس تنازعے کا فوری اثر مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ آئندہ کے مراحل میں سینیٹ کی جانب سے اس قانون کی منظوری یا ردعمل مالیاتی منڈیوں کی سمت کا تعین کرے گا، اور اس کے تحت ممکنہ ضوابط کی سختی یا نرمی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk