بینک آف جاپان نے اعلان کیا ہے کہ جون کے مہینے میں بنیادی مہنگائی کا اشاریہ جو کہ تازہ خوراک اور خاص عوامل کو خارج کر کے ماپا جاتا ہے، اپنے 2 فیصد کے ہدف سے کافی اوپر رہا۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ توانائی کو بھی خارج کر کے دیکھا جائے تو یہ اضافہ 2.0 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار جاپان کی معیشت میں مہنگائی کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں، جو مرکزی بینک کی پالیسیوں کے لیے اہم ہیں۔ اس صورتحال کا فوری اثر مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر مالیاتی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کی صورت میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح اسی طرح برقرار رہی تو بینک آف جاپان کو اپنی مانیٹری پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے، جس سے جاپانی کرنسی اور قرضوں کی مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایشیائی خطے میں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance