یورپ کی اعلیٰ عدالت نے گوگل اور اس کی والد کمپنی الفابیٹ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے ان پر عائد 4.1 ارب یورو کے اینٹی ٹرسٹ جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ جرمانہ یورپی کمیشن کی جانب سے 2018 میں عائد کیا گیا تھا جس میں گوگل پر الزام تھا کہ اس نے اینڈرائیڈ کی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ایپس کو اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے پہلے سے انسٹال کروا کر غیر منصفانہ برتری حاصل کی۔ یورپی عدالت نے اس فیصلے کو مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے گوگل کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اینٹی ٹرسٹ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہا ہے۔ اس فیصلے کا فوری اثر یہ ہو گا کہ گوگل کو اپنی کاروباری حکمت عملیوں میں مزید شفافیت اور مقابلہ بازی کو فروغ دینا ہوگا۔ مستقبل میں، یورپی کمیشن کی جانب سے دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ایپل اور میٹا کے خلاف بھی سخت نگرانی جاری رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت۔ اس فیصلے سے یورپی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقابلہ بازی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance