امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 جون کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وفاقی اداروں کو 30 دنوں کے اندر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی سائبر سیکیورٹی خطرات کے لیے جانچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فریم ورک کو رضاکارانہ قرار دیا گیا ہے اور اس کا مقصد مقابلہ بازی کو فروغ دینا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی نگرانی کو ایک رضاکارانہ اور مسابقتی نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کی نگرانی اب بھی پابندیوں اور تعمیل پر مرکوز ہے۔ اس فیصلے سے مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی حفاظت اور ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ کرپٹو سیکٹر میں پابندیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ رضاکارانہ فریم ورک کس حد تک موثر ثابت ہوتا ہے اور کیا کرپٹو ریگولیشن میں کسی قسم کی نرمی یا سختی آتی ہے۔ اس اقدام سے امریکی مارکیٹ میں دونوں شعبوں کی ترقی اور حفاظتی اقدامات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance