تیل اور عالمی کرائسس؟ ویکلی بٹ کوائن اینالائسس، بتاریخ 09 مارچ 2026

بٹ کوائن اینالائسس

گزشتہ ویکلی بٹ کوائن اینالائسس میں ہم نے ایک سائیڈویز مارکیٹ، ایک لانگ ٹرم ڈاؤن ٹرینڈ اور ایک عارضی باکس کی بات کی تھی۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ تب بھی جاری تھی لیکن وقت کم ہوا تھا۔ آبنائے ہرمز بند تھی، تیل کی قیمت بڑھ رہی تھی لیکن سچویشن اتنی بری نہیں ہوئی تھی۔ آج کے ویکلی اینالائسس میں ہم ان سب چیزوں پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔ آج کا ویکلی اینالائسس انتہائی اہم ہے۔

گزشتہ ویکلی بٹ کوائن اینالائسس

گزشتہ ہفتے جب ہم ویکلی بٹ کوائن اینالائسس پر بات کر رہے تھے تو ہم نے ایک چارٹ پر ایک باکس بنایا تھا۔ اس چارٹ میں کچھ سپورٹس، ریزسٹنس اور رینجز تھیں۔ ہم نے کہا تھا کہ مارکیٹ ایک مڈ ٹرم سائیڈویز میں اس رینج میں موو کر رہی ہے۔

Bitcoin Chart Range box

سچویشن ابھی بھی وہی ہے، لہذا ہم پچھلی بار والے ویکلی بٹ کوائن اینالائسس کا کچھ حصہ یہاں نقل کر کے اپنی آج کی گفتگو کی جانب چلتے ہیں:

"اگر آپ اوپر موجود تصویر دیکھیں تو اس میں ایک باکس دکھایا گیا ہے جو 56500 سے لے کر 89000 تک ہے۔ اس میں موجودہ رینج کو سبز اور سرخ لائنوں سے ہائی لائٹ کیا ہوا ہے جب کہ چارٹ کے نچلے حصے میں ایک پرپل لائن ہے۔ چارٹ کے اوپر دو نیلی لائنیں ہیں۔ یہ چارٹ ایک رینج باکس ہے جس میں اس وقت بٹ کوائن کی قیمت چل رہی ہے۔

چونکہ مارکیٹ کبھی ایک رخ میں مسلسل نہیں چل سکتی اس لیے ہر بل اور بئیر مارکیٹ میں چھوٹی بل اور بئیر موومنٹس ہوتی ہیں۔ یہ چھوٹی بل اور بئیر موومنٹس ایک رینج میں چلتی ہیں جسے سائیڈ ویز رینج کہا جاتا ہے۔ اگر اس وقت بالکل چھوٹی سائیڈ ویز رینج کی بات کی جائے تو وہ ساٹھ ہزار سے ستر ہزار کے درمیان ہے جیسا کہ چارٹ سے واضح ہے۔ اور اگر بڑی رینج کی بات کی جائے تو وہ اس باکس کے مطابق ہے۔

یہ باکس موجودہ رینج کا نچلا حصہ بتا رہا ہے جو 60000 سے 56500 کے درمیان ہے، نیز اس میں اوپری حصہ بھی واضح ہے جو 84000 سے 89000 کے درمیان ہے۔ اگر پرائس اس رینج کو نہیں توڑتی تو آنے والے دنوں اور مہینوں میں ہمیں یہ توقع ہے کہ پرائس اگلی نیگیٹو موومنٹ سے پہلے اس باکس کے اوپری حصے کو چھو کر آئے گی۔”

موجودہ ویکلی بٹ کوائن اینالائسس چارٹ:

اگر آپ گزشتہ ہفتے میں مارکیٹ کی موومنٹ دیکھیں تو وہ ان ہی رینجز کے آس پاس رہی ہے:

ویکلی بٹ کوائن اینالائسس
ویکلی بٹ کوائن اینالائسس 09-03-2026

بٹ کوائن کی قیمت اپنی چھوٹی رینج سے اوپر اٹھی اور بڑی رینج میں جانے کی کوشش کی لیکن شدید خراب عالمی صورت حال میں اوپر باقی نہیں رہ سکی اور واپس اپنی رینج میں آ گئی۔ البتہ جیسا کہ ہم آگے گفتگو کریں گے، بٹ کوائن کی قیمت نے اوور آل عالمی حالات کا اثر ویسا نہیں لیا ہے جیسا بہت سے اینالسٹ توقع کر رہے تھے۔

ایران، اسرائیل، امریکہ جنگ اور تیل

گزشتہ ہفتے امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا تھا اور اس کی اعلی قیادت کو ختم کر دیا تھا۔ عالمی طور پر شاید یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ عمل ایران میں رجیم چینج کا سبب بن جائے گا اور ایرانی عوام انقلاب لا کر حکومت کو ختم کر دیں گے۔ ایسا ہوتا تو یہ امریکہ کے مکمل حق میں ہوتا اور امریکہ کی کوشش ہوتی کہ نئی حکومت اس کی حامی ہو۔

بیک گراؤنڈ

اس حوالے سے ہمیں یہ بیک گراؤنڈ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ گزشتہ کچھ عرصے سے سستے تیل اور رئیر ارتھ معدنیات کی طلب میں شدت سے لگا ہوا ہے۔ امریکہ سے بھی تیل نکلتا ہے لیکن امریکی تیل کی پروڈکشن اوسطاً تیرہ سے چودہ ملین بیرل روزانہ ہے جب کہ امریکہ میں تیل کا استعمال اوسطاً بیس ملین بیرل سے زائد روزانہ ہے۔

امریکہ کے پاس تیل کا اسٹریٹجک ریزرو بھی ہے جس کی کیپیسٹی 714 ملین بیرلز ہے، لیکن اس وقت ریزرو میں موجود تیل اٹھاون فیصد تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ نے منتخب ہوتے ہی امریکہ میں "نیشنل انرجی ایمرجنسی” کا اعلان کیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف ریزروز مکمل کریں گے بلکہ امریکہ دنیا کو انرجی سپلائی بھی کرے گا۔ (حوالہ)

یہ کام کیسے ہوگا اور کب تک ہوگا؟ یہ اس وقت فوری طور پر واضح نہیں تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ امریکی پالیسی کچھ اس شکل میں سامنے آئی کہ ایسے ممالک سے تیل لیا جائے جو بڑے پیمانے پر تیل رکھتے تو ہیں لیکن سپلائی نہیں کر سکتے۔ چنانچہ سب سے پہلے امریکہ نے ونزویلا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں امریکی فوج نے آپریشن کر کے ونزویلا کے صدر کو گرفتار / اغوا کر لیا۔

اس موو کا مثبت نتیجہ سامنے آیا اور ونزویلا کی باقی ماندہ حکومت کے ساتھ امریکی معاملات تیل کے حوالے سے کافی بہتر ہو گئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ونزویلا اگرچہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھتا ہے لیکن اس کی پروڈکشن صرف آٹھ سے نو لاکھ بیرلز روزانہ ہے۔ یہ پروڈکشن کسی زمانے میں تین ملین بیرل تھی لیکن اندرونی حالات، انفرا اسٹرکچر کے خراب ہونے اور امریکی پابندیوں کی وجہ سے سکڑ چکی ہے۔

ونزویلا کی یہ پروڈکشن کل امریکی کھپت کے مقابلے میں چار سے پانچ فیصد بنتی ہے اور اس میں بھی ہیوی کروڈ آئل کافی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اسے دس سے بارہ فیصد تک لے جانے میں دس سال لگ سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ تیل فی الحال امریکہ کے فائدے کا نہیں ہے اور دس سال بعد بھی کم ہی ہوگا۔

چنانچہ امریکہ نے دوسرے پابندی زدہ ملک ایران کی جانب رخ کیا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ وہ نیوکلئیر ہتھیار بنا رہا ہے اور اسے نیوکلئیر ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اپنا میزائل پروگرام بھی روکنا چاہیے۔ اس حوالے سے دونوں کے مذاکرات جاری تھے اور جلد یا بدیر دونوں کسی نتیجے تک پہنچ جاتے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال ہی بارہ روزہ جنگ میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی نیوکلئیر پروگرام ختم کر چکا ہے۔

ایران نیوکلئیر پروگرام پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار تھا لیکن میزائل پروگرام ایران کی واحد دفاعی قوت ہے۔ برسوں کی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی فضائیہ انتہائی کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کا شاید یہ خیال ہو کہ ونزویلا کی طرح یہاں بھی ایرانی قیادت ہٹا دی جائے اور انقلاب آ جائے تو یہ معاملات آسان ہو جائیں گے اور امریکہ ایران سے تیل وصول کر سکے گا۔ لیکن اس میں ایرانی مزاج کو سمجھنے میں غلطی ہو گئی اور معاملات بگڑ گئے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔ ایران نے فوری طور پر اردگرد موجود عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل میں بھی کچھ اہم دفاعی مقامات کو نشانہ بنایا۔ شروع میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملے بہت زیادہ تھے لیکن اب کم ہو چکے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایران کے پاس ہتھیار کم ہو چکے ہیں، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ چونکہ شروع میں دفاعی نظام متحرک تھے تو نشانہ لگنا مشکل تھا، اب وہ آسان ہو چکا ہے تو ایران نے رفتار کم کر دی ہے۔

آبنائے ہرمز اور تیل کی سپلائی

جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے فوری طور پر آبنائے ہرمز بند کر دی جہاں سے دنیا کو 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔ یہ آفیشلی تو بند نہیں ہے لیکن عملاً بند ہے۔ آبنائے ہرمز ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جسے اگر بند کر دیا جائے تو مشرق وسطی کے تیل اور گیس بنانے والے ممالک کافی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

کہا یہ جاتا ہے کہ قانوناً آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن عملاً یہ کام کوئی ایسا مشکل نہیں ہے۔ ایران اگر اس علاقے میں اپنی ایک پراکسی بنا دے جو بظاہر ایران کی مخالف ہو لیکن درحقیقت وہ اس راستے کو ڈسٹرب رکھے تو یہ سپلائی یہاں سے روکنے کے لیے کافی ہے۔ اس کا الزام بھی ایران پر نہیں آئے گا۔

اب ایک جانب خلیجی ممالک میں حملے جاری ہیں اور دوسری جانب سپلائی روٹ متاثر ہے تو دنیا کی تیل کی سپلائی کافی حد تک متاثر ہو رہی ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے جو تیل پیدا کرنے والے ممالک براہ راست متاثر ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:

  • قطر

  • عراق

  • کویت

  • سعودی عرب

  • بحرین

  • متحدہ عرب امارات

  • اسرائیل

  • ایران (برآمدات متاثر)

جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل تک دنیا کی کروڈ آئل کی سپلائی 106.6 ملین بیرل روزانہ تھی ۔ جنگ سے یہ پندرہ سے بیس فیصد تک متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کی کھپت اس وقت 104 ملین بیرل روزانہ ہے۔ لیکن یہ مساوات بھی اتنی سادہ نہیں ہے کیوں دنیا کا ایک بڑا سپلائیر روس ہے جس پر پہلے ہی امریکہ کی جانب سے پابندیاں ہیں۔ ان پابندیوں کو نرم کر بھی لیا جائے تب بھی روس اس وقت یوکرین کے واسطے سے یورپ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔

یوں تیل کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں ایک بڑا گیپ پیدا ہو رہا ہے۔

تیل کے عالمی ریزروز

دنیا کے بہت سے ممالک اپنے پاس تیل کا اسٹریٹجک ریزرو مینٹین رکھتے ہیں۔ یہ ریزرو اس لیے ہوتا ہے کہ اگر اچانک کوئی بڑا مسئلہ ہو تو وقتی طور پر سہارا دیا جا سکے۔ آج نو مارچ کو ہونے والی انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی میٹنگ کے مطابق اس کے ممبران کے ریزروز تقریباً سوا ارب بیرلز ہیں جب کہ مختلف کمپنیوں کے پاس چھ سو ملین بیرلز تک تیل موجود ہے۔

اگر دنیا میں تیل کی سپلائی اور کھپت یا یہی فرق جاری رہا تو یہ ریزروز زیادہ سے زیادہ 130 دن گزار سکتے ہیں، لیکن یہ مساوات بھی مکمل نہیں ہے کیوں کہ ایک تو جنگ کی وجہ سے استعمال زیادہ ہوگا اور دوسرا تمام ممالک کچھ عرصے بعد ریزرو دینے سے رک جائیں گے۔ یوں جنگ جاری رہنے کی صورت میں تقریباً تین ماہ بعد بحران شروع ہو جائے گا۔

تیل اور عالمی معیشت

اب یہاں ہم اصل نکتے کی جانب آتے ہیں۔ ہم نے آج کے دن تیل کی قیمت کو 116 ڈالر تک پہنچتے دیکھا۔ اس کے بعد کچھ ریزرو جاری ہونے کی خبر اور امریکی صدر کے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے ارادے سے اس کی قیمت واپس نیچے آئی۔ عملاً ان میں سے دوسری چیز انتہائی مشکل ہے۔ ایران کی موجودہ قوت نہ ہو تب بھی اس کی پراکسیز ہی اس جگہ امریکہ کو زچ کرنے کے لیے کافی ہوں گی اور کسی ایک خطرناک واقعے سے سپلائی متاثر ہو جائے گی۔

پہلی چیز یعنی ریزروز زیادہ وقت گزار نہیں سکتے۔ تو اگر جنگ جاری رہتی ہے تو کچھ اندازوں کے مطابق تیل کی قیمت کچھ یوں ہوگی:

1۔ محدود جنگ

اگر صرف شپنگ متاثر رہے اور بڑے آئل فیلڈ محفوظ رہیں تو تقریباً قیمت:
110–130 ڈالر فی بیرل جو ہم نے آج ہی دیکھ لی۔

2۔ سپلائی میں بڑی رکاوٹ

اگر آبنائے ہرمز زیادہ عرصہ بند رہتی ہے اور کئی ممالک کی برآمدات رک جاتی ہیں تو ممکنہ قیمت:
140–180 ڈالر فی بیرل

چونکہ عملاً آبنائے ہرمز بند ہے لہذا یہ بالکل ممکن ہے۔

3۔ بڑے آئل فیلڈ یا انفراسٹرکچر تباہ

اگر جنگ میں بڑے آئل فیلڈ یا ٹرمینلز تباہ ہو جائیں تو ممکنہ قیمت:
200 ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ

گزشتہ دنوں اسرائیل نے ایرانی تیل ریزرو پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا ہے جس کے جواب میں ممکن ہے کہ ایران ان ممالک کے ریزروز تباہ کرے جہاں امریکی بیسز ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایران بحرین کے ریزروز پر حملہ کر بھی چکا ہے۔

یہاں ایک اور بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ اگر تیل کی یا ایل این جی کی پروڈکشن رکتی ہے تو وہ جنگ بند ہوتے ہی کھل نہیں جاتی بلکہ صورت حال کے مطابق اسے چند دنوں سے چند ماہ تک لگ سکتے ہیں۔ اس لیے ڈیمانڈ اور سپلائی کا گیپ جلدی ختم نہیں ہو پائے گا۔

انفلیشن، اسٹاک، ریسیشن

تیل کی قیمت گزشتہ دنوں جب بڑھی تو ہم نے اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور اوپر مذکور دوسرے لیول تک کچھ عرصہ رہتی ہے جس میں تیل کی قیمت 150 ڈالر تک پہنچتی ہے تو یہ چیز دنیا بھر میں مہنگائی کو انتہائی بڑھا دے گی۔ اس کا براہ راست اثر توانائی کے علاوہ سیکٹرز پر آئے گا اور ان میں شدید گراوٹ ہوگی۔ عالمی ماہرین کا سمجھنا ہے کہ اس سے پوری دنیا کی معیشت جام ہو سکتی ہے۔

چونکہ یہ مہنگائی اچانک اور بہت تیز ہوگی اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس ٹولز نسبتاً کم ہوں گے۔ کمپنیاں دیوالیہ ہوں گی یا ریسائزنگ کریں گے جس کے نتیجے میں بیروزگاری بڑھے گی اور عالمی طور پر کساد بازاری شروع ہو جائے گی۔ یہ ایک خطرناک سینیریو ہوگا جو کئی ممالک اور ان کے عوام کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

بٹ کوائن اور حالات، ویکلی بٹ کوائن اینالائسس کی روشنی میں

بٹ کوائن پر ابھی تک ہم نے ان حالات کا کوئی خاص اثر دیکھا نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ بٹ کوائن ایک اوور آل بئیر مارکیٹ میں ہے تو ہمیں اس کے زیادہ اوپر جانے کی توقع بھی نہیں ہے۔ البتہ اگر عالمی طور پر معاشی کرائسس آتا ہے تو اس کا فوری اثر بٹ کوائن پر بھی نظر آئے گا۔ اس صورت میں بٹ کوائن چالیس ہزار کی رینج میں پہنچ سکتا ہے جو کچھ اینالسٹس کے مطابق اس کا باٹم ہو سکتا ہے۔ ابھی یہ بات کہنا غیر یقینی ہے۔

اس طرح کے حالات کا عمومی نتیجہ "منی پرنٹنگ” ہوتا ہے جس میں ریاستی بینکس اور فیڈرل ریزرو مارکیٹ میں بامر مجبوری پیسہ ڈالتے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر مارکیٹ کا پہیہ چل پڑتا ہے اور دو تین سال بعد ایک بار پھر انفلیشن کے مسائل سر اٹھا لیتے ہیں۔ جب مارکیٹ کا پہیہ چلتا ہے تو بٹ کوائن ان ابتدائی چیزوں میں ہوتا ہے جو اپنی اٹھان اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس مکمل سینیریو میں اگر مارکیٹس میں فوری گراوٹ آتی ہے تو وہ وقت لانگ ٹرم خریداری کے لیے موزوں وقت ہوگا۔

گلوبل بلیک آؤٹ

بعض اینالسٹس کا یہ بھی خیال ہے کہ مارکیٹس میں ایک شدید گراوٹ آنے سے قبل عالمی بلیک آؤٹ ہوگا جس میں انٹرنیٹ وغیرہ بالکل ڈاؤن ہو جائیں گے۔ انرجی کرائسس کی صورت میں اس کا امکان اگرچہ موجود ہے لیکن فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ایسی صورت میں بٹ کوائن کو کولڈ والٹس میں منتقل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن عملاً یہ مشورہ دو وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں لگتا:

  1. ایسے کسی کرائسس کو وقت سے پہلے جاننا ممکن نہیں ہوتا کہ اس سے قبل کوئی ایکشن لیا جا سکے۔
  2. اگر کرائسس کے دوران باٹم کے قریب خریدنا مقصود ہے تو کولڈ والٹس میں منتقل کرنے کے لیے بٹ کوائن نہیں ہوں گے۔

بہرحال ہر صورت میں ہمیں خود کو تیار رکھنا چاہیے اور مارکیٹ پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ مجھے اگلی ویکلی بٹ کوائن اینالائسس رپورٹ تک ایسا کچھ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ اگلی رپورٹ میں اس وقت کی صورت حال ہم ان شاء اللہ ڈسکس کریں گے۔

اینالسٹ: مفتی اویس پراچہ

نوٹ: یہ اینالائسس معلوماتی مقاصد کے لیے ہے، اس میں کوئی انویسٹمنٹ ایڈوائس نہیں دی گئی۔

ٹیگز:
شئیر کیجیے: