امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ بات ان کے قریبی معاونین اور ریپبلکن حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات کا محور ممکنہ فوجی حکمت عملی اور تنازع کے بعد کے حالات ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر امریکی حکمت عملی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں سیاسی اور فوجی صورتحال پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اس قسم کی تبدیلیاں علاقائی استحکام اور عالمی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اگر زمینی فوج کی تعیناتی عمل میں آئی تو اس کے فوری اثرات میں فوجی مداخلت اور ممکنہ کشیدگی میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس اقدام سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مستقبل میں اس صورتحال کی پیش رفت پر عالمی برادری کی نظر رہے گی، خاص طور پر خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance