بلیک راک کے سی ای او لیری فنک نے مالی خدمات کے شعبے میں موجود غیر مؤثر طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد ثالثوں اور طویل تصفیہ کے عمل کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ تمام اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کر کے اور ڈیجیٹل والیٹس میں موجود کیش یا سٹیبل کوائنز سے اسٹاکس یا بانڈز میں آسانی سے منتقلی ممکن بنا کر لین دین کی پیچیدگیوں اور اخراجات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ڈیجیٹل والیٹس میں چار کھرب ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم موجود ہے، لیکن سرمایہ کاری کے لیے فنڈز کو روایتی والیٹس میں منتقل کرنا پڑتا ہے جس پر مختلف کمیشن اور فیسیں عائد ہوتی ہیں۔ اثاثوں بشمول جائیداد کی ٹوکنائزیشن کا مقصد ان رکاوٹوں کو ختم کر کے سرمایہ کاری کے عمل کو زیادہ آسان اور شفاف بنانا ہے۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کو مالیاتی مارکیٹ میں زیادہ سہولت اور کم لاگت پر سرمایہ کاری کرنے کا موقع ملے گا، جس سے مجموعی طور پر مالیاتی نظام کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں اس رجحان کے بڑھنے سے مالیاتی شعبے میں جدت اور شفافیت میں اضافہ متوقع ہے، تاہم اس کے نفاذ کے دوران ریگولیٹری چیلنجز اور تکنیکی مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance