ایرانی فوج کے کمانڈر امیر حاتمی نے کہا ہے کہ مخالف فریق اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ایران نے دفاعی محاذ پر کامیابی حاصل کی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان فوجی کشیدگی نے خطے کی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔
حاتمی کے مطابق دشمن کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں، خصوصاً میزائل اور ڈرون نظام، کو کمزور کرنا تھا، تاہم ایرانی فوج نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ ایرانی مؤقف میں دفاعی جنگ کے معیار کو بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا کہ حملہ آور کے اہداف پورے نہ ہونا دفاع کرنے والے فریق کی کامیابی تصور ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے لیے آئندہ اہم عوامل میں جنگ بندی کی پائیداری، ممکنہ سفارتی رابطے اور خطے میں مزید فوجی کارروائی کا خطرہ شامل ہیں۔ کشیدگی میں اضافہ تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور سرمایہ کاروں کے خطرے سے گریز پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ مذاکرات میں پیش رفت مارکیٹوں کو عارضی سہارا دے سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance