امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی شرائط پر اتفاق کی اطلاعات کے بعد بدھ کو توانائی سے متعلق مالیاتی منڈیوں میں نمایاں دباؤ دیکھا گیا۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق کم سلفر فیول آئل اور فیول آئل کے معاہدوں میں آٹھ فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ ایس سی خام تیل کے معاہدے بھی چھ فیصد سے زائد نیچے آگئے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم واشنگٹن یا تہران کی جانب سے کسی حتمی اور باضابطہ معاہدے کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی لیے سرمایہ کار تازہ پیش رفت کو فوری طور پر مکمل امن معاہدے کے بجائے ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
توانائی مارکیٹ پر اس خبر کا اثر اس لیے گہرا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے آبنائے ہرمز، خلیج فارس میں بحری آمدورفت اور عالمی تیل رسد کے خطرات کو مرکزی حیثیت دے رکھی ہے۔ جنگ بندی کی قابلِ عمل پیش رفت سے شپنگ، انشورنس اور رسد میں رکاوٹ سے متعلق خطرہ کم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی پریمیم تیزی سے نکل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ماضی میں جنگ بندی کے کمزور پڑنے اور مذاکرات میں تعطل کے باعث قیمتوں میں اچانک الٹ پھیر دیکھی گئی ہے۔ مارکیٹ اب جنگ بندی کی پائیداری، آبنائے ہرمز کے دوبارہ معمول کے مطابق کھلنے، پابندیوں کے ممکنہ اثرات اور ایرانی تیل کی برآمدات میں کسی اضافے کے شواہد پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اگر سفارتی عمل برقرار رہتا ہے تو کم رسد کے خدشات، افراطِ زر کی توقعات اور مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق اندازوں میں نرمی آ سکتی ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں توانائی قیمتوں، افراطِ زر اور عالمی سرمایہ کارانہ جذبات پر دوبارہ شدید دباؤ پیدا ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance