امریکا نے ایران سے منسلک دو کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول، اوفک، نے ایران سے منسلک دو کرپٹو ایکسچینجز شیلبٹ اور ابان ٹیتر کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن کی اس وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد تہران کی کرپٹو اثاثوں، غیر ملکی کرنسی اور متبادل مالیاتی راستوں تک رسائی محدود کرنا ہے۔ پابندیوں کے نتیجے میں امریکی دائرہ اختیار سے وابستہ اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکی شہریوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے لیے نامزد پلیٹ فارمز کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ لین دین قانونی خطرہ بن جائے گا۔ اس فیصلے سے ایران کے کرپٹو شعبے پر پہلے سے موجود دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، کیونکہ امریکی حکام حالیہ مہینوں میں ایرانی ایکسچینجز، متعلقہ والیٹ ایڈریسز اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر چکے ہیں۔

یہ پیش رفت کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس لیے اہم ہے کہ پابندیاں اب صرف مخصوص افراد یا ڈیجیٹل والیٹس تک محدود نہیں رہیں بلکہ پورے ایکسچینج انفراسٹرکچر، اس کے صارفین، لیکویڈیٹی فراہم کرنے والوں اور عالمی ادائیگی کے شراکت داروں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز سے وابستہ رقوم کی منتقلی، اسٹیبل کوائنز کا اجرا یا ریڈیمپشن، اور بیرونی ایکسچینجز کے ساتھ روابط پر بینک اور بلاک چین سروس فراہم کنندگان اضافی نگرانی عائد کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً متعلقہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم ہونے، قیمتوں میں فرق بڑھنے اور صارفین کے اثاثوں تک رسائی میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ عالمی کرپٹو کمپنیوں کے لیے بھی یہ اقدام تعمیلی تقاضوں، صارف کی شناخت، لین دین کی نگرانی اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کی روک تھام کو مزید مرکزی حیثیت دیتا ہے۔

وسیع تر سطح پر، اوفک کی کارروائی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی حکومت ایران کے خلاف مالیاتی دباؤ میں ڈیجیٹل اثاثوں کو ایک اہم محاذ سمجھ رہی ہے۔ اس سے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور بڑے کرپٹو پلیٹ فارمز کے رویے پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ وہ ممکنہ ثانوی پابندیوں، ساکھ کے نقصان اور ریگولیٹری کارروائی سے بچنے کے لیے ایرانی روابط رکھنے والی کمپنیوں سے فاصلہ اختیار کر سکتے ہیں۔ فوری طور پر تمام عالمی کرپٹو اثاثوں پر یکساں اثر متوقع نہیں، تاہم مارکیٹ کا مجموعی جذبات محتاط ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر مزید نامزدگیاں، اثاثوں کی ضبطی یا ادائیگی کے نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات سامنے آتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: