کولڈ کارڈ ہارڈویئر والٹ سے منسلک بٹ کوائن چوری کے واقعے نے ڈیجیٹل اثاثوں کی خود تحویل، والٹ سکیورٹی اور کرپٹو مارکیٹ کے اعتماد پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دستیاب تجزیے کے مطابق 250 متاثرہ صارفین کی رپورٹس میں فی صارف نقصان کا درمیانی حجم 1.022 بٹ کوائن رہا، جبکہ ایک صارف نے تقریباً 58.97 بٹ کوائن سے محروم ہونے کی اطلاع دی۔ مجموعی طور پر کم از کم 111 ملین ڈالر مالیت کے بٹ کوائن کی چوری کی تصدیق کی جا چکی ہے، جبکہ مزید پتوں اور لین دین کی جانچ جاری رہنے کے باعث حتمی نقصان اس سے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ متاثرہ پتوں میں موجود سکے عموماً طویل عرصے سے غیر فعال تھے؛ تجزیے کے مطابق چوری کیے گئے فنڈز میں 88 فیصد کم از کم ایک سال پرانے تھے اور عام طور پر تقریباً ساڑھے تین سال سے منتقل نہیں ہوئے تھے۔
واقعے کی بنیادی وجہ کولڈ کارڈ ایم کے تھری کے بعض فرم ویئر ورژنز میں موجود ایک خامی کو قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق مارچ 2021 سے جاری مخصوص سافٹ ویئر میں بیج تیار کرتے وقت ہارڈویئر کے حقیقی بے ترتیب نمبر پیدا کرنے والے نظام کے بجائے کمزور سافٹ ویئر پیseudo-random number generator استعمال ہو گیا، جس سے حملہ آور متاثرہ والٹس کے بیج یا سیڈ فریز کا اندازہ لگا سکتے تھے۔ حملہ آوروں نے پہلے مرحلے میں 35 ملین ڈالر سے زیادہ کے بٹ کوائن منتقل کیے، جس کے بعد ہفتے کے اختتام تک چوری کا سلسلہ جاری رہا۔ کمپنی نے صارفین کو فوری طور پر اپنے فنڈز منتقل کرنے یا متعلقہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مارکیٹ کے لیے اس واقعے کی اہمیت صرف چوری شدہ رقم تک محدود نہیں۔ کولڈ اسٹوریج کو عموماً آن لائن حملوں کے مقابلے میں محفوظ سمجھا جاتا ہے، اس لیے فرم ویئر کی سطح کی خامی ادارہ جاتی محافظوں، بڑے سرمایہ کاروں اور خود تحویل اختیار کرنے والے صارفین کے خطرے کے جائزے کو متاثر کر سکتی ہے۔ محتاط سرمایہ کار اپنے سکے دیگر والٹس یا ایکسچینجز میں منتقل کر رہے ہیں، جس سے عارضی طور پر آن چین لیکویڈیٹی، ایکسچینج بہاؤ اور مارکیٹ جذبات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر مزید نقصانات کی تصدیق ہوتی ہے تو ضابطہ کار اداروں کی توجہ سکیورٹی آڈٹ، ذمہ داری اور صارف تحفظ پر بڑھ سکتی ہے، تاہم یہ واقعہ بٹ کوائن کے بنیادی پروٹوکول کے بجائے ایک مخصوص والٹ کے سافٹ ویئر ڈیزائن سے متعلق ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine