مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر بٹ کوائن 65 ہزار ڈالر سے نیچے، برینٹ خام تیل 83 ڈالر سے تجاوز کر گیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں خطرے سے گریز کا رجحان نمایاں کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن 65 ہزار ڈالر کی سطح سے نیچے منڈلا رہا ہے۔ یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کے بعد توانائی کی رسد اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 83 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ سرمایہ کار اس پیش رفت کو خطے میں تنازع کے پھیلاؤ اور عالمی تجارت، بحری راستوں اور تیل کی ترسیل کے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ عام طور پر افراطِ زر کے خدشات کو تقویت دیتا ہے، کیونکہ مہنگی توانائی سے نقل و حمل، صنعت اور صارفین کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں مرکزی بینکوں، بالخصوص امریکی فیڈرل ریزرو، کے لیے شرحِ سود میں کمی یا مالیاتی پالیسی نرم کرنے کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ بلند شرحِ سود اور مضبوط ڈالر عموماً بٹ کوائن سمیت خطرے والے اثاثوں پر دباؤ ڈالتے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار زیادہ منافع کے بجائے نقدی، قلیل مدتی سرکاری بانڈز یا دیگر نسبتاً محفوظ ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خبروں کا اثر صرف جذبات تک محدود نہیں رہتا بلکہ لیکویڈیٹی اور میکرو اقتصادی توقعات کے ذریعے بھی قیمتوں میں منتقل ہوتا ہے۔

بٹ کوائن کی موجودہ کمزوری کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل مکمل طور پر یک طرفہ نہیں ہے۔ بعض سرمایہ کار اسے عالمی مالیاتی نظام سے الگ متبادل اثاثہ سمجھتے ہیں، لیکن حالیہ ادوار میں اس کی قیمت نے بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی اسٹاکس، شرحِ سود اور ڈالر کی سمت کے ساتھ حرکت کی ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے یا اہم توانائی اور بحری راستوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو تیل میں مزید اتار چڑھاؤ، ادارہ جاتی سرمائے کی محتاط پوزیشننگ اور کرپٹو مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس سفارتی پیش رفت یا کشیدگی میں کمی بٹ کوائن سمیت خطرے والے اثاثوں میں عارضی بحالی کا سبب بن سکتی ہے، تاہم فی الحال مارکیٹ کی توجہ علاقائی سلامتی، تیل کی رسد اور مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: