بینک آف اٹلی کی تحقیق: سٹیبل کوائنز ریمیٹینس کے لیے ہمیشہ سستے نہیں ہوتے

بینک آف اٹلی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سٹیبل کوائنز کے ذریعے ریمیٹینس بھی روایتی طریقوں کے مقابلے میں ہمیشہ سستے نہیں ہوتے۔ اس تحقیق میں ایک مِسٹری شاپنگ تجربہ کیا گیا جس میں مختلف عوامل جیسے کہ ایکسچینج فیس، فارن ایکسچینج اسپریڈز، اور بینکنگ ریلز کو مدنظر رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان عوامل کی وجہ سے سٹیبل کوائنز کے ذریعے بھی ریمیٹینس کی لاگت اکثر روایتی طریقوں کے برابر یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو کرپٹو کرنسیز کے ذریعے ریمیٹینس بھیجتے وقت لاگت کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ مارکیٹ پر اس تحقیق کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ ریمیٹینس سروسز میں شفافیت اور مقابلہ بڑھ سکتا ہے، جس سے صارفین کو بہتر انتخاب کرنے میں مدد ملے گی۔ مستقبل میں، اگر بینکنگ اور کرپٹو کرنسیز کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا گیا تو یہ لاگت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال صارفین کو دونوں طریقوں کی لاگت کا موازنہ کرنا ضروری ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: