جے پی مورگن نے کہا ہے کہ امریکی مارکیٹ اسٹرکچر قانون سازی کے امکانات میں کمی نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک اہم محرک کو ختم کر دیا ہے۔ اس کے باوجود، ٹوکنائزیشن اور ادارہ جاتی اپنانے میں پیش رفت جاری ہے۔ اس صورتحال سے کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ کے لیے یہ ایک معتدل اثر ہے کیونکہ قانون سازی کی تاخیر یا ناکامی سے نئے ریگولیٹری فریم ورک کی غیر موجودگی میں مارکیٹ کی ترقی سست ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر قانون سازی کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ کریپٹو اثاثوں کے لیے مثبت ہو سکتا ہے، ورنہ مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk