ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں امریکیوں کو کرپٹو کرنسی فراڈز کی وجہ سے تقریباً 80.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جو کہ رپورٹ شدہ 11.4 ارب ڈالر سے سات گنا زیادہ ہے۔ یہ تخمینہ 2017 کے ایک سروے پر مبنی ہے جس میں بتایا گیا کہ فراڈ کی شکایات کم درج کی جاتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں دھوکہ دہی کے واقعات بہت زیادہ ہیں اور ان کا اثر صارفین اور سرمایہ کاروں پر شدید پڑ رہا ہے۔ مارکیٹ میں اس قسم کے فراڈز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے صارفین کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں ریگولیٹری اداروں کی جانب سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور مارکیٹ کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مستقبل میں، اگر فراڈ کی روک تھام کے لیے موثر قوانین نافذ نہ کیے گئے تو کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں مزید بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے، جو کہ سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt