ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی ہرمز کی تنگی کے انتظام کے لیے ایک مسودہ بل کا جائزہ لے رہی ہے جس میں عدلیہ، اقتصادی، اور شہری امور کی ذیلی کمیٹیاں بھی شامل ہیں۔ یہ مسودہ بل ایران کی اس آبی گزرگاہ پر خودمختاری قائم کرنے اور گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔ مئی میں ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کہا تھا کہ اس مسودے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو ہرمز کی تنگی سے گزرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی، اور دشمن ممالک کے جہازوں کو صرف اس صورت میں عبوری اجازت نامہ دیا جائے گا جب وہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کریں۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی علاقائی خودمختاری کو مضبوط کرنا اور اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول قائم رکھنا ہے۔ اس بل کے ممکنہ نفاذ سے خطے میں تجارتی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر عالمی تیل کی ترسیل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance