اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو اور ان کی امریکی دورے کی ٹیم نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا منصوبہ بنایا ہے جس میں وہ ایران کے فوجی اور جوہری پروگراموں کے بارے میں تازہ ترین انٹیلی جنس فراہم کریں گے۔ یہ انٹیلی جنس ایران کی جوہری ہتھیاروں کی ترقی میں تیزی کا الزام عائد کرتی ہے۔ ایک اسرائیلی سینئر عہدیدار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے امکانات بہت کم ہیں اور کشیدگی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں سیاسی اور فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کا اثر عالمی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔ مارکیٹ میں بھی اس صورتحال کے باعث غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر توانائی اور دفاعی شعبوں میں۔ مستقبل میں اس تنازع کے بڑھنے کے خطرات موجود ہیں جو عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance