سنگاپور میں نوجوانوں کے درمیان دوسری ملازمتیں کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ ایک تنخواہ اب روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں رہی۔ یہ تبدیلی خاص طور پر اس وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے دور نے کام کرنے کے انداز اور معاشی حالات پر اثر ڈالا ہے۔ ایک مالیاتی مشاورتی فرم میں کام کرنے والی 32 سالہ ایڈیل لی، جو ذاتی معاون ہیں، ہفتے میں تین راتیں ٹک ٹاک لائیو اسٹریم کے ذریعے استعمال شدہ کپڑے بیچتی ہیں۔ وہ ناظرین کے سوالات کے جوابات دیتی ہیں اور ہر نشریہ کے بعد آرڈرز کی پیکنگ کرتی ہیں۔ یہ رجحان سنگاپور کے نوجوان کارکنوں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ کسی خاص پالیسی یا کمپنی کے اعلان کی وجہ سے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے اضافی ذرائع تلاش کرنے پڑ رہے ہیں، جو کہ موجودہ معاشی حالات کی ایک اہم علامت ہے۔ مستقبل میں، اگر معاشی دباؤ برقرار رہا تو اس قسم کے رجحانات میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے کام کے اوقات اور زندگی کے معیار پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance