امریکی کانگریس میں پیش کردہ کلیرٹی ایکٹ کے تازہ مسودے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کو ڈیجیٹل اثاثے جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے، تاہم یہ پابندی 2029 تک محدود رہے گی۔ اس قانون کا مقصد مارکیٹ کی شفافیت اور اخلاقی حدود کو یقینی بنانا ہے، جس میں سرکاری اہلکاروں اور ان کے شریک حیات کو کرپٹو کرنسی کے منصوبوں سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، غیر تحویلی (non-custodial) ڈیولپرز کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ بلا تعطل کام کر سکیں۔ قانون کی نفاذ کی ذمہ داری محکمہ انصاف پر رکھی گئی ہے، جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس مسودے کے تحت کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد بڑھانے کی توقع ہے، جبکہ اس کے نفاذ سے متعلق کچھ خدشات بھی موجود ہیں کہ آیا یہ پابندیاں طویل مدت تک موثر رہیں گی یا نہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون کرپٹو انڈسٹری میں ایک معتدل تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔ مستقبل میں اس قانون کی مکمل منظوری اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر نظر رکھی جائے گی تاکہ کرپٹو مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt