نیا کلیرٹی ایکٹ: صدر اور حکام کے لیے کرپٹو اثاثے جاری کرنے پر پابندی

امریکی سینیٹ کے ریپبلکنز نے کلیرٹی ایکٹ کا ایک نیا مسودہ جاری کیا ہے جس میں صدر، نائب صدر، کانگریس کے ارکان، وفاقی ججز اور دیگر سرکاری حکام کو ڈیجیٹل اثاثے جاری کرنے یا ان کی حمایت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد کرپٹو کرنسی کے شعبے میں اخلاقی قواعد وضح کرنا ہے تاکہ سرکاری عہدیداروں کے مفادات کے تصادم کو روکا جا سکے۔ مسودے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری اہلکار اس پابندی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس اثاثے کی لسٹنگ ممنوع ہو جائے گی۔ اس قانون میں ایک سیف ہاربر کی شق بھی شامل ہے جس کے تحت اہلکار اپنے ڈیجیٹل اثاثے کو بلائنڈ ٹرسٹ میں منتقل کر کے یا فروخت کر کے پابندی سے بچ سکتے ہیں۔ یہ پابندیاں جنوری 2029 تک نافذ العمل رہیں گی، جو موجودہ صدارتی مدت کے اختتام کے ساتھ ختم ہو جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد کرپٹو کرنسی کے شعبے میں شفافیت اور اعتماد کو بڑھانا ہے، جبکہ اس سے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کے خدشات بھی کم ہوں گے۔ آئندہ، اس قانون کے تحت سرکاری حکام کی کرپٹو سرگرمیوں پر سخت نگرانی کی جائے گی، جس سے مارکیٹ میں استحکام اور قانونی وضاحت متوقع ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: