امریکی اور ایرانی کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ وال اسٹریٹ کے اسٹاک پیر کے روز ابتدائی منافع کے بعد کم ہو گئے، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ ایرانی صدر نے اعلان کیا کہ ملک امریکہ کے ساتھ مکمل جنگ کی حالت میں ہے، جبکہ حوثی باغیوں نے سعودی بندرگاہوں کو محاصرہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں برینٹ تیل کی قیمت ایک بار پھر 90 امریکی ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، اور امریکی پٹرول کی قیمتیں بھی چار ڈالر فی گیلن سے اوپر چلی گئیں۔ سرمایہ کار ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آمدنی کی رپورٹوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے متعلق توقعات کے پیش نظر۔ ایس اینڈ پی 500، ڈاؤ جونز اور نیسڈیک انڈیکسز میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی حکمت عملی اور مارکیٹ کی سمت متاثر ہو سکتی ہے۔ آئندہ دنوں میں صورتحال کی شدت اور عالمی ردعمل پر نظر رکھی جائے گی تاکہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance