روس نے ایک نیا قانون سازی کا مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت غیر پیشہ ور سرمایہ کاروں کو غیر ملکی اسٹیبل کوائنز کی خریداری سے روک دیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت، جو ملک کے بیشتر رہائشیوں کو شامل کرتا ہے، غیر ملکی ڈیجیٹل اثاثوں کی خریداری پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مسودہ قانون میں "غیر ملکی ڈیجیٹل آلات” اور "غیر قابل منتقلی غیر ملکی ڈیجیٹل آلات” کے تصورات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں اثاثہ کی پشت پناہی والے اسٹیبل کوائنز کو دوسرے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ صرف مستند سرمایہ کاروں کو غیر ملکی ڈیجیٹل آلات خریدنے کی اجازت ہوگی، جبکہ غیر مستند سرمایہ کار صرف مرکزی بینک کی مخصوص فہرست میں شامل اثاثے خرید سکیں گے۔ مرکزی بینک نے جون کے آخر میں اسٹیبل کوائنز کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک تجویز کیا تھا جس کے تحت تمام لین دین ریاستی کنٹرول کے تحت ہوں گے اور انہیں صرف ایکسچینجز یا قانونی تبادلہ پوائنٹس کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی نظام کی حفاظت اور صارفین کے اثاثوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے مارکیٹ میں غیر ملکی اسٹیبل کوائنز کی خریداری محدود ہوگی، جس سے سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مستقبل میں اس قانون کے تحت مزید واضح ضوابط اور نگرانی کے اقدامات متوقع ہیں تاکہ مالیاتی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance