برطانیہ کی ایچ ایم ریونیو اینڈ کسٹمز نے کرپٹو کرنسی قرضوں اور لیکویڈیٹی پولز کے حوالے سے ایک نئی ٹیکس پالیسی متعارف کرائی ہے جس کے تحت ان لین دین کو ‘نفع نہ نقصان’ کی بنیاد پر ٹریٹ کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کو کیپٹل گینز ٹیکس اس وقت تک ادا نہیں کرنا پڑے گا جب تک وہ اصل کرپٹو کرنسی کی اقتصادی فروخت نہ کریں۔ یہ نیا قانون یکم اپریل 2027 سے نافذ العمل ہوگا اور افراد اور ٹرسٹیز دونوں پر لاگو ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد کرپٹو اثاثوں کے قرض اور لیکویڈیٹی پولز کی ٹیکس کی پیچیدگیوں کو کم کرنا اور انہیں اقتصادی حقیقت کے مطابق بنانا ہے۔ اس سے تقریباً سات لاکھ افراد متاثر ہوں گے جو ان قسم کے لین دین میں ملوث ہیں۔ موجودہ نظام کے تحت کرپٹو کرنسی کی فروخت، تبادلہ یا خرچ کرنا ٹیکس کے قابل سمجھا جاتا ہے، لیکن نئی پالیسی مخصوص معاملات میں اس اصول میں نرمی لاتی ہے۔ اس تبدیلی سے صارفین کو ایک آسان اور واضح ٹیکس فریم ورک ملے گا، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی متوقع ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی براہ راست کسی بڑے معاشی اثر کی توقع نہیں رکھتی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine