اسٹیبل کوائن مارکیٹ کیپ میں مئی سے اب تک تقریباً 10 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جس میں جون کے مہینے میں 7.7 ارب ڈالر کی کمی سب سے بڑی ہے۔ یہ کمی مئی 2022 کے ٹیرہ-لونا کرش کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اسٹیبل کوائنز کی طویل مدتی ترقی کا رجحان بحال رہے گا۔ اس مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ عام ہیں اور سرمایہ کاروں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسٹیبل کوائنز کی بنیادی خصوصیت استحکام ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں موجودہ کمی کے باوجود، اسٹیبل کوائنز کی اہمیت برقرار رہے گی کیونکہ یہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں لیکویڈیٹی اور استحکام فراہم کرتے ہیں۔ آئندہ مہینوں میں مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ کسی ممکنہ خطرے یا مواقع کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk