کوائن شیئرز نے بٹ کوائن کو تین اہم دباؤ کا سامنا بتایا ہے جن میں امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی، ایران کی سیاسی غیر یقینی صورتحال، اور کلیرٹی بل کی پیش رفت میں تاخیر شامل ہیں۔ جون کے ایف او ایم سی اجلاس کے منٹس سے پتہ چلا ہے کہ فیڈ نے اپنی پالیسی شرح کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھا ہے جبکہ نرم رویہ ختم کر دیا گیا ہے، جس سے ستمبر میں شرح سود میں اضافے کا امکان برقرار ہے۔ اپریل میں بنیادی پی سی ای مہنگائی کی شرح 3.3 فیصد رہی جبکہ مئی میں یہ 3.4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ایران میں جنگ بندی معاہدے کی نازک صورتحال نے جغرافیائی سیاسی دباؤ کو بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے بٹ کوائن کی تجارت اب ایک میکرو اثاثے کی طرح ہو گئی ہے۔ کوائن شیئرز کے مطابق، بٹ کوائن ای ٹی ایف میں آٹھ ہفتوں تک مسلسل آٹھ ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کی رقم نکالی گئی، تاہم حالیہ تین تجارتی دنوں میں ان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جو مارکیٹ کے قریب قریب کفایت شعاری کی حالت میں پہنچنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس صورتحال سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی مالیاتی اور جغرافیائی عوامل بٹ کوائن کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance