ڈوجی، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 4 جولائی کو باضابطہ طور پر ختم ہو گیا، نے کرپٹو مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ اس ادارے نے نومبر میں مرکزی حیثیت کھو دی تھی اور اس کے بچت ٹریکر نے یکم جنوری کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی، جس نے تقریباً 215 ارب ڈالر کی بچت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس خاتمے کے بعد، ایلون مسک اور مائیکل سیلر کی جانب سے بٹ کوائن کے حوالے سے کی گئی پوسٹس نے مارکیٹ میں بٹ کوائن کے حوالے سے نئی امیدیں اور قیاس آرائیاں پیدا کی ہیں، حالانکہ انہوں نے ڈوجی کا نام صراحت سے نہیں لیا۔ بٹ کوائن کی قیمت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اس تبدیلی کو مثبت طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بٹ کوائن کو کرپٹو اصلاحات کی قیادت کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جو مارکیٹ میں استحکام اور ترقی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کے بعد مارکیٹ میں مزید قواعد و ضوابط اور نگرانی کے امکانات بھی موجود ہیں، جو سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance