مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اوپن سورس ماڈلز کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے کرپٹو کرنسی کے ابتدائی دنوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اوپن سورس اے آئی کی موجودہ صورتحال بالکل ویسی ہی ہے جیسی 2014 میں بٹ کوائن کے حوالے سے تھی، جب اس کی حفاظت اور خطرات پر بحث جاری تھی۔ اینتھروپک کے سی ای او نے کانگریس میں اعتراف کیا کہ اوپن سورس ماڈلز سائنس کے لیے فائدہ مند ہیں، مگر ان کے بڑھتے ہوئے استعمال کو خطرناک بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بند ماڈلز کو ترجیح دی جا رہی ہے، جو کہ مارکیٹ میں محدود رسائی کے حامل ہیں۔ اس طرح کی پالیسیاں اوپن سورس ماڈلز کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن سورس ماڈلز تیزی سے بند ماڈلز کے قریب پہنچ رہے ہیں اور جلد ہی مقابلہ کر سکیں گے۔ اس صورتحال کا اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے جہاں سرمایہ کار اس نئے مرحلے کو بٹ کوائن کے ابتدائی دور سے مشابہ سمجھ کر مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ مستقبل میں حکومتیں اوپن ماڈلز پر پابندیاں لگانے کی کوشش کریں گی مگر ان کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ اس طرح کے رجحانات سرمایہ کاری کے لیے نئے دروازے کھول سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اس میدان میں دیر سے داخل ہو رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine