سٹی گروپ نے بٹ کوائن کے لیے اپنے 12 ماہ کے قیمت کے ہدف کو نمایاں طور پر کم کر کے 82,000 ڈالر کر دیا ہے، جو پہلے 112,000 ڈالر تھا۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ بٹ کوائن ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کی روانی میں کمی ہے، جو مارکیٹ کو پہلے بڑھا رہی تھی لیکن اب واپس ہو رہی ہے۔ اس سال بٹ کوائن ای ٹی ایف سے تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی رقم نکالی گئی ہے، اور جون کا مہینہ اس حوالے سے سب سے خراب رہا ہے۔ سٹی کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کی کمزور طلب، منفی ای ٹی ایف فلو اور واشنگٹن میں ڈیجیٹل اثاثہ قوانین کی غیر موجودگی اس کمی کی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل اثاثہ رکھنے والی کمپنیوں کی جانب سے بٹ کوائن کی فروخت کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، اگر مندی بڑھے تو بٹ کوائن کی قیمت 53,000 ڈالر تک گر سکتی ہے۔ اس کے باوجود، بٹ کوائن نے حالیہ دنوں میں 60,000 ڈالر کی حد عبور کی ہے اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.20 ٹریلین ڈالر کے قریب ہے۔ یہ تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہیں کیونکہ وہ بٹ کوائن کی مستقبل کی قیمت اور مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine