سٹی بینک نے اپنے 12 ماہ کے بٹ کوائن اور ایتھر کے قیمت کے ہدف میں نمایاں کمی کی ہے، جس کی وجہ امریکی کرپٹو قوانین میں تاخیر اور سرمایہ کاروں کی کمزور طلب کو قرار دیا گیا ہے۔ بینک نے اپنے ای ٹی ایف کے ان فلو کے اندازوں کو بھی ختم کردیا ہے، جو کہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی روانی میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فیصلے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔ امریکی قانون سازوں کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے واضح اور مستحکم قوانین نہ بننے کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا اثر مارکیٹ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں، کرپٹو مارکیٹ کی بحالی کے لیے قانونی فریم ورک کا واضح ہونا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ آئندہ چند مہینوں میں اگر قوانین میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو مارکیٹ میں مزید کمی کا خدشہ موجود ہے، جس سے کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk