فیدیلٹی کی ایک تازہ رپورٹ میں بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی موجودہ مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے، جہاں بٹ کوائن جون 2026 کے آخر تک 60,000 ڈالر سے نیچے تجارت کر رہا ہے، جو اکتوبر 2025 کی بلند ترین سطح سے تقریباً 53 فیصد کم ہے۔ رپورٹ میں پانچ ایسے عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس کرپٹو سردی کو ختم کر سکتے ہیں۔ ان عوامل میں بٹ کوائن کا چار سالہ چکر، جو مائننگ انعامات کو ہر چار سال بعد نصف کر دیتا ہے، ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس چکر کی بنیاد پر نومبر 2026 کے آس پاس مارکیٹ میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں ریگولیٹری فریم ورک کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے، خاص طور پر کلیرٹی ایکٹ کی پیش رفت کو جو ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کو واضح کرے گا اور قانونی غیر یقینی صورتحال کو کم کرے گا۔ اس قانون سازی کے تحت مارکیٹ میں سرگرمی بڑھنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی، خاص طور پر سود کی شرحوں میں کمی، کرپٹو مارکیٹ کے لیے مثبت اثرات رکھتی ہے، اگرچہ افراط زر کے خدشات ابھی بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں حقیقی دنیا کی اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن، اے آئی سے متعلق کرپٹو انفراسٹرکچر، اور مستحکم کوائنز کو ابھرتے ہوئے رجحانات کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مارکیٹ میں نئی جان ڈال سکتے ہیں۔ مزید برآں، ادارہ جاتی سرمایہ کاری بھی مارکیٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جیسا کہ امریکی اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ عوامل مجموعی طور پر کرپٹو مارکیٹ میں ممکنہ بہتری کے لیے مثبت اشارے فراہم کرتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine