ٹرمپ کے کوانٹم کمپیوٹنگ احکامات اور بٹ کوائن پر ان کے اثرات

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دو ایگزیکٹو احکامات پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد امریکہ کو کوانٹم کمپیوٹنگ میں عالمی برتری دلانا اور وفاقی حکومت کی کوانٹم حملوں سے محفوظ انکرپشن کی طرف منتقلی کو تیز کرنا ہے۔ یہ اقدامات خاص طور پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کے لیے اہم ہیں کیونکہ کوانٹم کمپیوٹرز کی طاقت بڑھنے سے ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

پہلا حکم 2028 تک قومی لیبارٹری یا محکمہ توانائی کی سہولت میں ایک سائنسی طور پر مؤثر کوانٹم کمپیوٹر کی تعیناتی کا ہدف رکھتا ہے جبکہ دوسرا حکم وفاقی نظاموں میں پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کو اپنانے کی آخری تاریخ کو 2035 سے کم کر کے 2031 کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بٹ کوائن کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے وقت کم ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ "کیو-ڈے” وہ لمحہ ہوگا جب کوانٹم کمپیوٹر اتنا طاقتور ہو جائے گا کہ وہ بٹ کوائن کے پرائیویٹ کیز کو عوامی ایڈریسز سے ریورس انجینئر کر سکے گا، جس سے والٹس کو خطرہ لاحق ہو گا۔ اس صورتحال میں بٹ کوائن ہولڈرز کو اپنی کرپٹو اثاثوں کی حفاظت کے لیے جلدی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ یہ احکامات براہ راست کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ نہیں کرتے، لیکن وفاقی سطح پر پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کی تیز تر منتقلی کا اشارہ دیتے ہیں، جو بٹ کوائن کمیونٹی کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرات اب دور کی بات نہیں بلکہ قریب آ رہے ہیں۔ مستقبل میں بٹ کوائن اور دیگر نیٹ ورکس کو کوانٹم مزاحم اپ گریڈز کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ صارفین کے اثاثے محفوظ رہ سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: