بینک آف انگلینڈ نے مستحکم کوائنز کی سخت حد بندیوں سے دستبرداری کر کے 50 ارب ڈالر کے اجراء کی حد مقرر کر دی

برطانیہ کے مرکزی بینک نے مستحکم کوائنز کی ریٹیل ہولڈنگ کی سخت حدود کو ترک کرتے ہوئے مجموعی طور پر 40 ارب پاؤنڈ کی حد مقرر کی ہے، جو تقریباً 50 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ اس فیصلے کے تحت ٹوکن جاری کرنے والوں کے لیے منافع کی شرائط کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ 2027 میں مارکیٹ میں اس کی باقاعدہ شروعات کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیوں کے استعمال کو منظم کرنا ہے۔ اس تبدیلی سے مارکیٹ میں مستحکم کوائنز کی فراہمی اور استعمال میں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی مالیاتی نگرانی اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا تاکہ کسی بھی غیر متوقع مالی بحران سے بچا جا سکے۔ اس فیصلے سے برطانیہ کی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہونے کی توقع ہے، جو عالمی مالیاتی نظام میں اس کے کردار کو مستحکم کرے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: