ترکی کے مرکزی بینک نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد تیسری مسلسل میٹنگ میں اپنی بنیادی شرح سود کو برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ ملکی معیشت میں سست روی اور سخت کرنسی کی کم طلب کو قرار دیا گیا ہے۔ بینک نے اس عرصے میں شرح سود میں تبدیلی سے گریز کیا تاکہ ملکی اقتصادی سرگرمیوں اور غیر ملکی کرنسی کی طلب کا جائزہ لے سکے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک موجودہ اقتصادی حالات کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے اور فوری طور پر کوئی بڑا مالیاتی قدم اٹھانے سے گریزاں ہے۔ اس فیصلے کا اثر مارکیٹ پر معتدل رہنے کا امکان ہے، جبکہ صارفین اور سرمایہ کاروں کو بھی کچھ حد تک استحکام کی توقع ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر ملکی یا بین الاقوامی حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی آتی ہے تو مرکزی بینک اپنی پالیسی میں ردوبدل کر سکتا ہے، جس سے مالیاتی مارکیٹ میں ردعمل متوقع ہے۔ اس وقت کے لیے، شرح سود کی اس سطح پر برقرار رہنے سے ترکی کی معیشت میں استحکام کی کوشش جاری رہے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance