ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک کے تمام اعلیٰ حکام مذاکراتی حکمت عملی پر مکمل اتفاق رائے رکھتے ہیں اور مذاکراتی متن یا تجاویز پر کسی قسم کے اختلافات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران ایک مربوط اور واضح حکمت عملی کے تحت مذاکرات کر رہا ہے جسے تمام حکام یکساں طور پر نافذ کر رہے ہیں۔ عارف نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے دو جنگوں کے تجربے سے قیمتی بحران مینجمنٹ مہارت حاصل کی ہے جو موجودہ صورتحال میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی حکومت مذاکرات کے حوالے سے متحد ہے اور اس کا مقصد تنازعہ کے پرامن حل کی طرف پیش قدمی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، خطے میں سیاسی کشیدگی میں کمی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم مذاکرات کی پیچیدگیوں اور عالمی سیاسی عوامل کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance