بٹ کوائن کی قیمت حالیہ دنوں میں تقریباً 12 فیصد کمی کے بعد 65,000 ڈالر سے نیچے آ گئی ہے، جو فروری کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب سرمایہ کاروں نے کرپٹو کرنسی سے نکل کر مصنوعی ذہانت، سونے اور متعدد بڑی آئی پی اوز کی جانب رجحان دکھایا۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی کمزوری کی وجوہات صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کی مارکیٹ میں حکمرانی کی کمی ہے۔ خاص طور پر، اسٹریٹیجی کی جانب سے بٹ کوائن کی پہلی فروخت نے اس کمی کو تیز کیا، تاہم یہ ایک طویل مدتی رجحان کا حصہ ہے۔ مارکیٹ میں سرمایہ کار اب بٹ کوائن کو ایک اہم سرمایہ کاری کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ دیگر متبادل سرمایہ کاریوں کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، امریکی پابندیاں ایران کی کرپٹو مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں، جس سے بٹ کوائن کی قیمت پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں، سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine