امریکی سینیٹ میں کلیرٹی ایکٹ کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ سینیٹ دیگر غیر کرپٹو معاملات کو مکمل کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔ کانگریس کے محدود ایجنڈے کی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ کے ڈھانچے سے متعلق قانون سازی کے لیے سینیٹ فلور پر وقت حاصل کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ اس صورتحال میں قانون سازوں کو مختلف ترجیحات کے درمیان مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے تاکہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے اہم بل کو منظوری دی جا سکے۔ اس کا فوری اثر کرپٹو مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس قانون کے بغیر مارکیٹ کی ساخت میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔ آئندہ ہفتوں میں سینیٹ کی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا کلیرٹی ایکٹ کو ترجیح دی جائے گی یا دیگر معاملات کو پہلے نمٹایا جائے گا۔ اس صورتحال میں کرپٹو مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط رہنے اور ممکنہ تاخیر کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk