ایرانی قانون سازوں نے امریکہ کی حالیہ کارروائیوں کے خلاف سخت اور مؤثر ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اسماعیل کوثری نے امریکی اقدامات کو شیطانی ذہنیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ان جارحانہ رویوں کے خلاف مضبوط موقف اپنانا چاہیے۔ اس مطالبے کا مقصد امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس اقدام سے خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے اور اس کا اثر عالمی مارکیٹوں پر بھی پڑ سکتا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھا تو اس کے منفی اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance