امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج پر پابندی عائد کر دی

امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے سب سے بڑے ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینج، نو بٹیکس، اور تین دیگر ایرانی کرپٹو پلیٹ فارمز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، جو تہران کے ڈیجیٹل مالی نظام پر امریکی حکومت کا ایک سخت حملہ ہے۔ نو بٹیکس نے 2025 میں ایران میں ڈیجیٹل اثاثوں کی آدھی سے زیادہ ترسیل کا انتظام کیا، اور یہ ادارہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے مالیاتی لین دین، رینسم ویئر آپریشنز، اور امریکی فوجی مداخلت کے بعد انٹرنیٹ بندشوں کے دوران حکومتی دولت کو چھپانے میں مددگار رہا۔ یہ پابندیاں ایران کی معیشت کی گرتی ہوئی حالت کے تناظر میں امریکی حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

یہ پابندیاں صرف ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں، بلکہ ایران کے دوسرے بڑے کرپٹو ایکسچینجز، جیسے والیکس اور بٹ پن، کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے ایران کی مالیاتی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر نو بٹیکس کے قیادت کے افراد کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں اس کے چیئرمین اور شریک بانی شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ امریکہ اب ان افراد کو بھی جوابدہ ٹھہرانا چاہتا ہے جو اس مالیاتی نیٹ ورک کو چلاتے ہیں۔

یہ اقدام عالمی مالیاتی مارکیٹس پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے کیونکہ ایرانی کرپٹو مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور مالیاتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو گی، جس سے عالمی کرپٹو کرنسیز کے استعمال اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ، پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی کرپٹو ایکسچینجز اور اسٹیک ہولڈرز کو ایرانی صارفین کے ساتھ تعلقات ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام میں عدم استحکام اور قانون سازی کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے۔ اس طرح کی پابندیاں نہ صرف ایران کی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے استعمال اور ریگولیٹری ماحول پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: