امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے ٹیکساس کے ایک شخص فلر کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے $12.3 ملین کی کرپٹو کرنسی اسکیم چلائی جو جعلی AI ٹریڈنگ بوٹس پر مبنی تھی۔ فلر پر الزام ہے کہ اس نے اس رقم میں سے $6.2 ملین ذاتی استعمال کے لیے منتقل کیے جبکہ $5.5 ملین پونزی طرز کی ادائیگیوں میں خرچ کیے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف 3 فیصد فنڈز کرپٹو ٹریڈنگ میں استعمال ہوئے۔ اس اسکیم کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا گیا اور ان کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس مقدمے کے نتیجے میں مارکیٹ میں کرپٹو کرنسی کی شفافیت اور اعتماد کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ ایسے منصوبوں میں احتیاط سے سرمایہ کاری کریں اور مکمل تحقیق کریں۔ مستقبل میں اس طرح کے کیسز کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ مالیاتی فراڈ کو کم کیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk