نیویارک کی سپریم کورٹ میں ایک گمنام مدعی نے 39,069 بے حرکت بٹ کوائن ایڈریسز کے قانونی مالک بننے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے جن میں تقریباً 3.8 ملین بٹ کوائنز موجود ہیں، جن کی موجودہ قیمت تقریباً 293 ارب ڈالر ہے۔ یہ مقدمہ پہلی بار امریکی تاریخ میں بٹ کوائن کو کھوئی ہوئی اور پائی گئی جائیداد کے قانون کے تحت قانونی ملکیت کے لیے دائر کیا گیا ہے۔ مدعی، جو خود کو ‘نوح ڈو’ کہتا ہے، نے نیویارک کے ذاتی جائیداد کے قانون کے آرٹیکل 7-بی کا حوالہ دیا ہے جو عام طور پر مادی اشیاء کے لیے ہوتا ہے، جیسے کہ سڑک پر ملنے والا پرس یا ٹیکسی میں چھوڑا گیا زیور۔ تاہم، اس قانون کا اطلاق ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی پر پہلی بار کیا جا رہا ہے۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ بٹ کوائن ایڈریسز ‘کھوئی ہوئی جائیداد’ کے زمرے میں آتے ہیں اور مدعی نے متعلقہ حکام کو اطلاع دے کر قانونی ملکیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مقدمے کے اہم نکات میں شامل ہے کہ مدعی کے پاس ان ایڈریسز کے پرائیویٹ کیز نہیں ہیں، اور بٹ کوائن کی اصل ملکیت صرف پرائیویٹ کی رکھنے والے کے پاس ہوتی ہے۔ اس کیس کا مارکیٹ پر فوری اثر محدود ہو سکتا ہے، مگر یہ قانونی فریم ورک میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے جو کرپٹو کرنسی کی ملکیت اور حقوق کے حوالے سے اہم ہو گا۔ آئندہ اس مقدمے کے فیصلے سے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت اور ملکیت کے مسائل پر واضح رہنمائی مل سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے لیے اہم ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine