ایران نے ہرمز کے تنگ راستے اور خلیج فارس میں گزرنے والی شپنگ کے لیے ایک بٹ کوائن سے منسلک سمندری انشورنس پلیٹ فارم "ہرمز سیف” کا آغاز کیا ہے۔ یہ سروس کارگو مالکان اور شپنگ کمپنیوں کو ہدف بناتی ہے جو اس اہم سمندری راستے سے گزرتی ہیں۔ اس منصوبے کی حمایت ایران کی وزارتِ معیشت اور مالی امور کر رہی ہے اور اس سے ملک کو دس ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی متوقع ہے۔
یہ پلیٹ فارم تیز، قابلِ تصدیق ڈیجیٹل انشورنس فراہم کرتا ہے جو بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی اور بلاک چین کی رفتار سے تصفیہ ہوتا ہے۔ اس انشورنس میں جہاز کی جانچ، حراست اور ضبطی کے خطرات شامل ہیں جبکہ جنگ کے نقصانات کی کلیم شامل نہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی اقتصادی حکمت عملی کو مضبوط بنانا اور امریکی پابندیوں کے باوجود مالیاتی نظام کو مستحکم کرنا ہے۔
ایران نے حال ہی میں ہرمز کے راستے کے لیے ایک ٹرانزٹ ٹول سسٹم بھی متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں سے فیس لی جاتی ہے۔ اب یہ فیس بٹ کوائن یا دیگر غیر ڈالر کرنسیوں میں ادا کی جا سکتی ہے، جو ایران کے لیے مالیاتی آزادی کا ایک اہم قدم ہے۔
یہ منصوبہ ایران کی جانب سے بٹ کوائن کو قانونی ادائیگی کے طور پر قبول کرنے اور اس کے کرپٹو کرنسی کے استعمال کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے نہ صرف ایران کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عالمی تیل کی ترسیل پر ایران کے کنٹرول کو بھی مالیاتی شکل دی جائے گی۔ مستقبل میں اس سروس کے کامیاب نفاذ سے ایران کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine